کورونا وبا ءکے سبب ہلاکتوں اور لاک ڈاؤن سے درپیش مشکلوں کا سلسلہ جاری ہے۔ نظام زندگی مفلوج ہے، پیٹ کی آگ بجھنے کا نام نہیں لے رہی ہے، ضرورتوں نے لا چارو بے بس کردیا ہے، اگر یہ سلسلہ دراز ہوا تو جو لوگ ابھی ناؤنوش کے محتاج ہیں کیا بعید کل وہ اپنی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے مجرم بھی نہ بن جائیں ۔ حالات کی نزاکت اور قدرتی آفت کے بیچ رمضان المبارک کا مہینہ بھی سایہ فگن ہے۔ رحمتوں کا سلسلہ جاری ہے، مغفرتوں کی نوید مسلسل قائم ہے۔ دوعشرے مکمل ہوئے ، بس آخری عشرہ کے چند دن اور پھر عید کی خوشیاں ہی خوشیاں ، عید کا دن قریب آپہنچا ہے اور عید کی خریداری کو لے کر متعدد ہدایات بھی سامنے آچکی ہیں۔ اپنی اپنی رائے اپنا نظریہ ۔ یادرہے کہ عید کا تہوار ہمارا مذہبی تہوار ہے، اس کی مشروعیت رب العالمین کی جانب سے ہے اور بحیثیت مسلمان ہم اس تہوار کو اسلامی رنگ و آہنگ کے ساتھ ہی منائیں گے، ان شاء اللہ۔
رہی بات عید کی خریدار کی تو چند پہلو قابل توجہ ہیں ۔ عید کی خریداری تو کی جائے البتہ اسراف سے پوری طرح اجنتاب کیا جائے۔ مثلاً آپ ہر سال پانچ ہزار کا سوٹ لیتے ہیں تو اس بار ایک ہزار یا اس سے کم کا ہی لے لیجیے ۔ ہر بار الگ اگ اور کئی کئی سوٹ سلواتے ہیں، اس مرتبہ صرف عید کے دن کے سوٹ پر اکتفا کیجیے ۔ وہ غیر ضروری سامان جن کا تعلق نمائش اور فیشن سے ہے ان کی خریداری بالکل نہ کریں۔ البتہ بنیادی چیزوں کی خریداری بقدر ضرورت کی جاسکتی ہے۔ آپ عید کا تہوار سادگی سے منائیں اور سادگی کو برقرار رکھنے کے لیے جن بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے ان کی خریداری کیجیے لیکن خیال رہے کہ آپ جو کچھ خریدیں اس میں ان چھوٹے تاجروں کو ترجیح دیں جن کی دوکانیں آپ کے محلہ میں ہیں، یا باراز میں کم جاذب نظر ہیں یا جو فٹ پاتھ پر بساط لگالتے ہیں اور ممکن ہو تو اس بار غیر ضروری بھاؤ بھی نہ کریں۔ بڑی بڑی دکانوں یا برانڈ یڈ کمپنیوں کو اس مرتبہ ترجیح نہ دیجیے۔ آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ بہت سے چھوٹے دکانداروں کی آمدنی کا واحد ذریعہ ان کا یہی پیشہ ہے جو اس لاک ڈاؤن میں بالکل معطل ہے اور ان کا کاروبار آپ ہی پر منحصر ہے، اگر آپ نے کمل بائیکاٹ کردیا تو ان کی پریشانیاں اور بھی بڑھ سکتی ہیں۔ کتنے مرد اور کتنی خواتین ایسی بھی ہیں جو اپنا گھر سلائی کی آمدنی سے ہی چلاتی ہیں، اگر آپ نے اس مرتبہ ان سے کپڑے نہیں سلوائے تو ان کا کیا حال ہوگا؟ اس لیے آپ ان کی بھی فکر کریں۔
ہمارے معاشرے میں ایک متوسط طبقہ ایسا تھی ہے جو ٹھیلا لگاتا ہے، فٹ پاتھ پر بسط لگاتا ہے، سلائی بنائی کرتا ہے، محلہ محلہ اپنے سر پر کپڑوں کی گٹھری لیے پھرتا ہے ۔ اس افتاد میں وہ نہ آپ سے مدد مانگ سکتا ہے اور نہ آپ اس کے تعاون کے بارے میں سوچ سکتے ہیں، جبکہ سب سے زیادہ خود دار اور سب سے زیادہ پریشان حال یہی طبقہ ہے۔ ان کی خود اری کو ٹھیس پہنچائے بغیر ان کی مدد اسی طرح کی جاسکتی ہے کہ آپ ان سے کچھ خرید لیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عید میں نیا لباس زیب تن فرماتے تھے، اگر اللہ نے آپ کو نوازا ہے تو آپ بھی نئے کپڑے پہنئے۔
یادرہے لباس کا نیا ہونا سنت ہے ’مہنگا‘ ہونا سنت نہیں ہے اور جس کی استطاعت نئے کپڑے سلوانے کی نہ ہو وہ اپنے سارے کپڑوں میں جو سب سے اچھا ہو اس کو پہنے ، ان شاء اللہ اس سے بھی سنت ادا ہوجائے گی۔ اس تحریر کا مقصد صرف اتنا ہی ہے کہ ہماری کوخود اعتمادی قائم رہے ، ہم اپنے گناہوں پر نادم ہیں اور اللہ کی رحمت سے مایوس بھی نہیں ہیں۔ ہم حالات سے گھبر ا کر بھاگنے والے نہیں ہیں، ہم ہر حال میں اپنے رب کے احکام کے پابند ہیں اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی پورے ایمانی جوش کے ساتھ عید منائیں گے اور اسراف جیسے گناہوں سے بچتے ہوئے پوری سادگی سے منائیں گے اور اس کوشش کے ساتھ کہ ہماری وجہ سے دوسرے گھروں میں بھی عید کی خوشیاں پہنچ سکیں۔ واللہ ہو المستعان